depalpur premier leaue season 3 844

ڈی پی ایل سیزن تھری کی چند دلچسپ اورناقابلِ فراموش یادیں

تحریر:قاسم علی…
21اپریل کودیپالپور کے منی سٹیڈیم میں شروع ہونیوالی دیپالپور پریمیئرلیگ 28اپریل کو اختتام پزیر ہوگئی فائنل قلندرزاور ایگلز کے مابین ہوا اور اس ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم دیپالپور قلندرز نے یہ مقابلہ دس وکٹوں سے جیت لیا مگر اس ٹورنامنٹ سے کئی دلچسپ اور تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہیں جن کاتذکرہ ہم یہاں کررہے ہیں ۔
**ڈی پی ایل سیزن تھری کے آغاز سے تین روز قبل سینئر صحافی چوہدری جاوید کنول چنڈور نے ڈی پی ایل کے انعقاد کے خلاف سول جج کی عدالت میں رٹ دائرکردی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈی پی ایل کھیل کی بجائے سیاسی اکھاڑہ ہے اور یہ کہ عوام کوبے تہاشا ساؤنڈسے تکلیف پہنچتی ہے۔اس رٹ کے بعد شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد ٹورنامنٹ کے ہونے یا نہ ہونے پر تذبذب کا شکارہوگئی تاہم عدالت نے 20اپریل کو ڈی پی ایل کروانے کی اجازت دے دی۔
** ڈی پی ایل کا پہلا میچ بھی قلندرز نے کھیلا اور اپنی مخالف ٹیم ڈیئرڈیولز کو شکست دی اور آخری میچ یعنی فائنل بھی قلندر نے کھیلا اورایگلز کے خلاف کامیابی حاصل کی ۔یہی نہیں بلکہ دونوں میچز میں قلندرز نے اپنی مدمقابل ٹیموں کو کم سکورز یعنی 49اور 59پر محدود کیا اور دونوں میچز کے دوران بعد میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹارگٹ کو کامیابی سے حاصل کرلیا۔
depalpur premier league season 3
**ڈی پی ایل میں کرکٹ کے دیوانے ہزاروں کی تعداد میں میچز دیکھنے کیلئے آتے رہے اور فائنل میں بیس ہزار کے قریب لوگوں نے میچ کو انجوائے کیا جو دیپالپور میں کسی بھی قسم کے ٹورنامنٹ میں ایک ریکارڈ تعداد ہے۔
**کوارٹر فائنل مرحلے میں عمرنائٹ رائیڈرز اوراحمدآبادیونائیٹڈ کے مابین میچ کی آخری گیند پر کھڑا ہونیوالا تنازعہ اس ٹورنامنٹ کی تلخ ترین یاد ہے جس میں مہمان کھلاڑی ابوبکر کو مبینہ طورپر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس کے بعد نہ صرف لاہورسے تعلق رکھنے والا یہ بہترین پلیئرواپس چلا گیا بلکہ نائٹ رائیڈرزکی پوری ٹیم نے ڈی پی ایل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے بقیہ میچز کھیلنے سے نکارکردیا۔
**ٹورنامنٹ میں لاہور کے ابوبکر نامی بیٹسمین کی انتہائی منفرد بیٹنگ کو بھی شائقین کبھی فراموش نہٰں کرسکیں گے جو کبھی وکٹ سے آگے اور کبھی پیچھے،کبھی آگے کبھی پیچھے ہٹ کر باؤلر کو پریشان کرتے اوراس پریشانی کا فائدہ اٹھاکرچھکوں چوکوں کی بارش کرتے رہے.
**آخری پول میچ میں منڈی احمدآباد اورمدثرسپرکنگ کے مابین ہواجس میں احمدآبادیونائٹد نے پہلے کھیلتے ہوئے
116رنز کا بڑا ٹارگٹ مدثرسپرکنگ کے سامنے رکھا مگر اس میچ میں اسد شاہ نے جس طرح احمدآباد یونائیٹڈ کے تمام باؤلرز کی بُری طرح پٹائی کرتے ہوئے ان کی گیندوں کو ایک درجن بار گراؤنڈ سے باہر پھینکا اور انتہائی مشکل ہدف کو جس طرح صرف چاراوورز میں عبورکیا دیپالپور میں کرکٹ شائقین اس اننگزکو شائد کبھی نہ بھلا پائیں گے.
depalpur premier league season 3
**پہلے سیمی فائنل مقابلے میں جب مدثرسپرکنگ کا مایہ ناز بیٹسمین اسدشاہ جس نے اپنے گزشتہ میچ میں چھکوں کی بارش کردی تھی کے رن آؤٹ ہونے پر تنازعہ کھڑا ہوگیامدثرسپرکنگ اسدشاہ کو ناٹ آؤٹ قراردینے پر بضد تھی تو دوسری جانب قلندرز اس قدر خطرناک بلے باز کو دوبارہ کریز پر نہیں آنے دینا چاہتے تھے ٹورنامنٹ کے آرگنائزرز اور امپائرز پریشان تھے کہ کیا فیصلہ کیاجائے اسی دوران مدثرسپرکنگ احتجاجاََ گراؤنڈ سے باہر چلی گئی تاہم اس موقع پر دیپالپور قلندرز کے اونر ملک شہزاد نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اسد شاہ کو دوبارہ بیٹنگ کی دعوت دے دی ان کا یہ دلیرانہ فیصلہ پورے ٹورنامنٹ کا خوبصورت ترین لمحہ اور سپورٹس مین سپرٹ کا شاندار مظاہرہ تھا جو کبھی بھی بھلایا نہ جاسکے گا اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اسدشاہ اس چانس سے کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے اور اسی اوور میں کلین بولڈ ہوکرپویلین لوٹ گئے۔
** ٹورنامنٹ انتظامیہ شائقین کے جوش و خروش اورپورے ملک سے بہترین کھلاڑیوں کی اس ایونٹ میں شرکت ی وجہ سے ڈی پی ایل کو ٹیپ بال کا ورلڈ کپ قراردیتی رہی۔
depalpur premier league final match
ٌٌٌٌ**ڈی پی ایل کے دوران شائقین کو دلچسپ مقابلے تو دیکھنے کو ملے ہی ساتھ ہی ساتھ اس ٹورنامنٹ کے دوران گراؤنڈ کے اردگرد لگے کھانے پینے کے سٹالز لگائے لوگوں کو بھی روزگار کے خوب مواقع ملے اور دیپالپور کے ہرچھوٹے بڑے ہوٹل و ریسٹورنٹ نے اپنے عارضی پوائنٹس یہاں بھی بنارکھے تھے علاوہ ازیں کئی ریڑھی بانوں نے بھی ان دنوں روزانہ کی بنیادپر ہزاروں کی دیہاڑیاں لگائیں تاہم عوام کی جانب سے ناقص اشائے خوردونوش کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔
**پورے ایونٹ کے دوران ڈی پی ایل فاؤنڈر میاں بلال عمربودلہ کی شخصیت زیربحث رہی کہ وہ اس ایونٹ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں اور اس خیال کو اس وقت مزید تقویت ملتی رہی جب سٹیج پر سے مختلف علاقوں کی شخصیات کی جانب سے الیکشن میں میاں بلال عمر کی حمائت کے اعلانات کیساتھ ساتھ انشااللہ ایم پی اے کے نعرے بھی لگتے رہے تاہم میاں بلال عمر نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران کوئی سیاسی تقریر نہیں کی جبکہ چیف آرگنائزرڈی پی ایل ملک شاہ بہرام مون نے ڈی پی ایل کو صرف سپورٹس کی ترویج قراردیا۔
depalpur premier league season 3
ٌٌٌٌ**ڈی پی ایل کے کمنٹیٹرز نے بھی شائقین کو خوب محظوظ کیا جہاں ایک طرف ملک شاہ بہرام مون نے خوبصورت شعروسخن سے اپنا رنگ جمائے رکھا وہیں ماماطارق نواز خان کی جانب سے کسی چھکے یا آؤٹ ہونے پر ”لٹے گئے مارے گئے”اور بچاؤ بچاؤکی آوازیں بھی دلچسپی سے خالی نہیں تھی جن کو کئی لوگوں نے ناپسند بھی کیا مگر اکثریت کا کہنا تھا کہ انٹرٹینمنٹ پروگرام میں ایسا چلتا رہتا ہے۔
abdulrauf tahir sports journalist
**پورے ڈی پی ایل ٹورنامنٹ کے دوران دیپالپور کے معروف سپورٹس جرنلسٹ عبدالرؤف طاہر کی پرفارمنس کوبھی یقینی طور پر بھلانا آسان نہیں ہوگا جوروزانہ رات آٹھ بجے سے لے کرتین بجے تک اپنے موبائل کیساتھ وکٹ کے پیچھے بیٹھ کرلائیو میچ دکھاتے رہے ان کی کرکٹ سے یہ محبت اور جنون کرکٹ کے دیوانے ہمیشہ یادرکھیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں