Depalpur premier league season 3 681

ڈی پی ایل سیمی فائنل میں جیت کیلئے کن کھلاڑیوں کو قابوکرنا ہوگا ؟

تحریر؛قاسم علی
ڈی پی ایل میلہ رفتہ رفتہ اپنے اختتامی لمحات کی جانب گامزن ہے پول اے اور بی کے شاندار مقابلوں کے بعد زیادہ پوائنٹس کی بنیاد پردو دو ٹیمیں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرچکی ہیں پول اے اے دیپالپور قلندرز اور دیپالپور ڈیئرڈیولز اور پول بی سے دیپالپور ایگلز اور مدثرسپرکنگز کی ٹیموں کے مابین سیمی فائنل میچزہوں گے۔
آج سے ڈی پی ایل کے سیمی فائنل مقابلے شروع ہورہے ہیں ۔
پہلاسیمی مقابلہ ڈیئرڈیولز اور دیپالپور ایگلز کے مابین ہوگا ۔دیپالپور ایگلز کے جن کھلاڑیوں نے اپنے پول میچوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے ان میں سندھ سے تعلق رکھنے والے عزیز کاندرو،خرم چکوال،عمیرپٹھان اور اکبربھولی شامل ہیں اس ٹیم میں عمران خان جیسا بڑا نام بھی شامل ہے جو مقامی کھلاڑی ہیں تاہم پول میچوں میں ان کو زیادہ کھیلنے کا موقع نہیں مل پایا مگر وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور وہ اس بڑے میچ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب دیپالپور ڈیئرڈیولز کے احسن چٹا،عمر بھیا،فرہادخان،رانامحسن،علی چشتی اورصغیرپٹھان نے اپنی ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں اہم ترین کردار اداکیااورامیدہے آج کے میچ میں بھی ان کا کردار مرکزی اہمیت کاحامل ہوگا ۔
دوسرے سیمی فائنل میں دپالپورقلندرزاور مدثرسپرکنگ کی ٹیمیں آپس میں ٹکرائیں گی اور مجھ سمیت بیشمار کرکٹ شائقین کو رات کو مدثرکنگ کی تاریخی جیت کے بعد اس معرکے کا شدت سے انتظار ہے۔کیوں کہ قلندرز کی ٹیم کو ڈی پی ایل کی فیورٹ ٹیم سمجھا جارہاہے تاہم گزشتہ شب مدثرسپرکنگ نے جس طرح احمدآباد یونائیٹڈ ٹیم کے 117رنزکے بڑے مجموعے کو انتہائی آسانی سے صرف 4اوورزمیں عبور کیااس کے بعد یقیناََ قلندرز کے بھی کان کھڑے ہوئے ہوں گے۔اس میچ میں اسد شاہ کی یادگار بلے بازی دیپالپور والے کبھی نہ بھلا پائیں گے.
دیپالپورقلندرز کی فتوحات میں جن کھلاڑیوں نے نمایاں حصہ ڈالا ہے ان میں طاہرپنڈی ، صنم اقبال،وسیم لیفٹی اور تیمورمرزاکو فراموش نہیں کیاجاسکتا اور آج بھی شائقین ان کھلاڑیوں سے بڑی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔
اسی طرح مدثرسپرکنگ کے داؤدپٹھان،اسد شاہ،آغا شفیع اور عمرپیسر کسی بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اگر قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک سو بیس سے بھی زائد سکور کرلئے تو مدثر کنگ اپنے سابقہ ریکارڈ کے لحاظ سے اس کو عبور کرلے گی۔
یادرہے یہ میرا تجزیہ ہے جو پول میچز کے نتائج کی روشنی میں دیا گیا ہے اور یہ غلط بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کرکٹ کی ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں متعدد بار ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ کمزور ٹیموں نے طاقتور ٹیموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور یہ بھی ہوا کہ میچ کے دوران بڑے بڑے کھلاڑی فیل ہوگئے اور ٹیل اینڈرز پر کھیلنے والے گمنام کھلاڑیوں نے مخالف ٹیم کو ناکوں چنے چبوادئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں