395

کورے کے فصلوں اور جانوروں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

تحریر:قاسم علی….
جنوری کے ایام میں صبح سویرے واک کے شوقین حضرات کو ہریالی کے اوپر سفید سی لہر دل کوبڑی بھاتی ہے مگر شائد کم لوگ ہی جانتے ہوں گے کہ یہ سفیدی جسے عرف عام میں کورا کہا جاتا ہے فصلوں کیلئے کتنا نقصان دہ ہے آئیے آج ہم اس کا ایک ہلکا سا جائزہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
چوہدری محمد سرور ڈسٹرکٹ زراعت آفیسر ہیں ان کا کہنا ہے کہ دیپالپور کی سرزمین زراعت کے حوالے سے پورے ایشیا میں ایک مقام رکھتی ہے یہاں پر گندم ،مکئی،کماد،چاول،آلو اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں مگر اس میں سب سے زیادہ مقدار میں آلو کاشت ہوتا ہے ان کے مطابق تحصیل دیپالپور میں پانچ لاکھ سات ہزار ایکڑ رقبہ زرعی کاشت کیلئے استعمال ہوتا ہے جس میں سے ایک اندازے کے مطابق دیپالپور تحصیل میں ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر آلو کاشت کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کورے کا سب سے زیادہ نقصان بھی آلو کو ہی ہوتا ہے یہ کورا آلو کی نہ صرف نشونما کو روک دیتا ہے بلکہ تیار آلو کو بھی جلا کر رکھ دیتا ہے اگر دوہفتے تک مسلسل کورا پڑتا رہے تو اس وجہ سے زمینداروں کو چالیس سے ساٹھ فیصد تک نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے تاہم مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اور بروقت پانی لگا کراس نقصان کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔
سجاد حسین بودلہ ایک زمیندار ہیں ان کا کہنا ہے کہ
میں نے دس ایکٹر آلو کاشت کئے ہیں مگر گزشتہ پانچ روز سے پڑنے والے کورے نے ان کے آلو کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اگرچہ اس نقصان سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ متوقع کورے سے بیتشر فصل کو پانی لگالیا جائے مگر بجلی کی عدم دستیابی کے باعث یہ بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔
میاں عادل وحید ایک زمیندار اور ماہر زراعت ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کورے کے مضر اثرات سے بچنے دو بڑے طریقے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت طویل المیعاد پالیسی بناتے ہوئے ملک میں درختوں کی ریشو پچیس فیصد تک لے کر جائے کیوں کہ درخت موسم اور ماحول کو بیلنس رکھنے کا کام کرتے ہیں ان درختوں کی کمی کی وجہ سے ہمارے ملک میں بڑا مومسمیاتی تغیر پیدا ہوچکا ہے ہمارے موسمی اوقات تبدیل ہوچکے ہیں بارشوں کا کوئی وقت نہیں اور دوسرا حل یہ ہے کہ حکومت ترقی یافتہ ممالک سے کورے سے بچانے والی ادویات امپورٹ کرکے کسانوں کی فراہم کرے۔جن کے استعمال سے کسی فصل کو نقصان نہیں ہوتا۔
غلام رسول نے بیس ایکڑ گندم کاشت کررکھی ہے اس کا کہنا ہے تھا کہ یہ کورا میری فصل کیلئے تو سونے جتنا قیمتی ہے تاہم آلو کے کاشکاروں کیلئے نقصان دہ ہے۔
عمررسیدہ محمد عاشق ایک نرسری چلاتے آرہے ہیں ۔سجاگ سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
جب سارا دن سردہوائیں چلیں مگر رات کو مطلع بالکل صاف اور ہوا بند ہوجائے تو یہ اگلی صبح کورا پڑنے کی ایک علامت ہوتی ہے اگریہ کورا شدت کیساتھ پڑے تو پودوں میں موجود پانی خشک ہوجانے سے پودے کی شاخیں سوکھ جاتی ہیں اور ان کا چھلکا پھٹ جاتا ہے پھلو ں کا رس ختم ہوجاتا ہے۔
اس نقصان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ نرسری کے اوپر لکڑی کا ایک چھپر ضرور بنایا جائے اور جو لوگ سبزیاں اور پھل کاشت کرتے ہیں وہ ان کو ڈھانپنے کیلئے پلاسٹ کور کا انتظام ضرور رکھا کریں ۔علاوہ ازیں محکمہ موسمیات کی خبروں سے بھی باخبر رہنا چاہئے تاکہ بروقت اقدامات کئے جاسکیں۔
کورے کا نقصان صرف فصلوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے جانوروں کی صحت اور خوراک پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر سجاد احمد دیپالپور کے شفاخانہ حیوانات میں ویٹنری آفیسر ہیں
ان کا کہنا ہے کہ کورے کی شدت کی وجہ سے سردی انتہائی بڑھ جاتی ہے جس کے باعث جانوروں کا ٹمپریچر کم ہوجاتا ہے اور ان کی قوت مدافعت ختم ہوکر رہ جاتی ہے جس سے انہیں بیماریاں لگ جاتی ہیں اور کئی چھوٹے جانور تو مربھی جاتے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ اس دوران جانوروں کو خوراک کی کمی کا بھی بڑا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ کورا برسیم اور کھاس وغیرہ کو بھی جلا کررکھ دیتا ہے اس کم خوراکی کا نتیجہ دودھ کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔تاہم انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تحصیل بھر کے جانوروں کو چیک کرنے اور ان کی بروقت امداد کیلئے موبائل وین سروس شروع کررکھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کو ہمیشہ چھت کے نیچے رکھاجانا چاہئے اور ان کو خوراک میں گڑ اور ونڈا دینے سے انہیں کورے کے مضر اثرات سے کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کورے کے فصلوں اور جانوروں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.