end of mian manzoor wattoo politics 1,193

کیا میاں منظور احمد خان وٹو کی سیاست کا باب بند ہوگیا ؟

تحریر:قاسم علی…
میاں منظور احمدخان وٹوملکی سیاست کا ایک بڑا نام اور اوکاڑہ کی سیاست کا ایک معتبر حوالہ ہیں ایک سال قبل میاں نوازشریف نے اپنے دورہ اوکاڑہ میں منظور وٹو کو اوکاڑہ کا بُرج قرار دیا تھا۔لیکن الیکشن 2018ء میں میاں صاحب اور ان کی فیملی کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑاہے جس پر بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ میاں منظور وٹو کا سیاسی کیریئر اب ختم ہوگیا ہے۔اس تحریر میں میاں منظور وٹو کے 1977ء سے 2018ء تک کےسیاسی کیرئیر کا ایک جائزہ لیا گیا ہے۔
میاں منظور احمد خان وٹو نے سیاسی کیرئر کا آغاز آزاد حیثیت سے الیکشن لڑکر کیا اس سے پہلے 1977ء میں ذولفقار علی بھٹو نے ان کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا مگر بعد ازاں یہ ٹکٹ ان سے واپس لے کر غلام محمدمانیکا کو دیدیا گیاجس پر میاں منظور احمد وٹو نے آزاد حیثیت سے یہ الیکشن لڑا اور ہارگئے ۔اس کے بعد میاں منظور احمدوٹو ائرمارشل اصغرخان کی تحریک استقلال میں شامل ہوگئے ۔1982ء میں ہونیوالے غیرجماعتی انتخابات میں میاں صاحب جیت کر ممبر ضلع کونسل بن گئے ان دنوں ساہیوال ضلع تھا مگر ان کے ممبر ضلع کونسل بننے کے ایک سال بعد1983میں اوکاڑہ کو بھی ضلع کی حیثیت مل گئی اور اس کیساتھ ہی میاں منظور احمد وٹو چیئرمین ضلع کونسل بھی بن گئے ۔اس کے بعد 1985ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتنے کے بعد منظور احمدوٹو ایم پی اے بن گئے یوں اس وقت ان کے پاس ضلع کونسل کی چیئرمینی بھی تھی اور ممبر صوبائی اسمبلی بھی تھے اور یہی نہیں اسی برس میاں منظور احمدوٹو سپییکرصوبائی اسمبلی بھی بن گئے جس پر انہوں نے ضلع کونسل کی چیئرمین شپ چھوڑ دی اور انہی کے بھائی میاں احمدشجاع چیئرمین ضلع کونسل بن گئے ۔اس کے بعد 1988ء میں بھی میاں منظور وٹوپر قسمت مہربان ہوئی اور وہ پہلے ایم پی اے بنے اور پھر سپیکر بنجاب اسمبلی بھی بن گئے ۔1990ء کے انتخابات میں وٹو صاحب ایم این اے بھی بن گئے اور حویلی لکھا سے ایم پی اے بھی بن گئے ۔تاہم انہوں نے پارٹی کے کہنے پرایم این اے کی سیٹ چھوڑدی جس پرراؤقیصرایم این اے منتخب ہوگئے اورخود ایم پی اے کی بنا پر تیسری مرتبہ پھر سپیکرپنجاب اسمبلی بن گئے ۔
mian mnazoor ahmed khan wattoo loose election 2018
ابھی انہی کی حکومت تھی کہ 1993ء میں وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدروائیں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروا کر میاں منظور احمدوٹو خود وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے تو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق کان نے اسمبلیاں تحلیل کردیں اس طرح منظور احمدوٹو کی وزارت اعلیٰ بھی ختم ہوگئی ۔مگر اس اقدام پرغلام حیدروائیں سپریم کورٹ چلے گئے جس پر سپریم کورٹ نے اسمبلیاں بحال کردیں اس طرح میاں منظور احمدوٹو ایک بار پھر وزیراعلیٰ کی مسند پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اس کے بعد 1993ء کے انتخابات میں میاں منظور احمدوٹو نے تاندلیانوالہ سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی نے یہاں بھی ان کے قدم چومے بعد ازاں ان کی جونیجو لیگ نے پیپلزپارٹی کیساتھ الحاق کرلیا اورپیپلزپارٹی نے ان کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنادیا ۔ اور ڈھائی سال تک اس وزیراعلیٰ رہے اس کے بعد مرکز اور صوبے کی لڑائی میں ان کی وزارت اعلیٰ جاتی رہی اور بینظیربھٹو نے سردار عارف نکئی کو وزیراعلیٰ بنادیا مگر صرف چھ ماہ بعد ہی فاروق لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کردیں ۔
1995ء میں میاں منظور احمدوٹو نے مسلم لیگ (جناح)کے نام سے اپنی پارٹی بنالی تاہم 1997ء کے الیکشن میں جیت نہ سکے بلکہ اس عرصہ میں نیب نے ان کے خلاف شکنجہ کسا اور پانچ سال تک کرپشن الزامات میں جیل میں رہے ۔تاہم اس کے باوجود ان کے بیٹے میاں معظم وٹو نے ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن جیت لیا اور 2001ء کے لوکل باڈی الیکشن میں جب کہ منظور وٹو جیل میں تھے مگر ان کا بیٹا میاں خرم جہانگیروٹو تحصیل ناظم منتخب ہوگیا۔2002ء میں میاں منظور وٹو جیل سے باہر آگئے اور اس سال ہونیوالے عام انتخابات میں ان کی بیٹی روبینہ شاہین وٹوایم این اے منتخب ہوگئیں۔
2008ء کے انتخابات میں میاں منظور احمدخان وٹو دیپالپور اور حویلی لکھا دونوں جگہ سے ایم این اے منتخب ہوگئے جس پر این اے 146دیپالپور کی سیٹ انہوں نے اپنے پاس رکھی جبکہ حویلی کی سیٹ چھوڑ کر اپنے بیٹے خرم جہانگیر کو وہاں سے منتخب کروادیا ۔اور اسی برس میاں منظور احمدوٹو پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اوراس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں میاں منظوروٹو کو انڈسٹری کی وزارت دے دی گئی جبکہ ان کے بیٹے میاں خرم جہانگیر وٹو پارلیمانی سیکرٹری بن گئے ۔اسی دور میں جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ ختم کی تو نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ان کو کشمیروبلتستان کا وزیر بنا دیا۔
depalpur politics NA 144
2013ء کا سال میاں منظور احمدوٹو کیلئے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہوا کیوں کہ اس برس پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر ہونے کے باوجود یہ الیکشن میں تمام سیٹیں ہارگئے تاہم الیکشن کے صرف 45دن بعد ہی حویلی میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جیتی ہوئی سیٹ پر ان کا بیٹا میاں خرم جہانگیروٹو ایم پی اے منتخب ہوگیا ۔
جب حالیہ الیکشن کا آغاز ہونے جارہاتھا تو اس وقت میاں منظور احمدوٹو پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی نائب صدر اور میاں خرم جہانگیروٹو ساہیوال ڈویژن کے صدر تھے۔
لیکن الیکشن 2018ء میں جیت کیلئے میاں منظور احمد خان وٹو نے ایک نئی سیاسی حکمت عملی ترتیب دی اور اپنی بیٹی روبینہ شاہین اور میاں خرم جہانگیر وٹو کو پی پی 184 اور پی پی 186 سے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑادیا جبکہ خود پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں این اے 144 سے آزاد کھڑے ہوگئے۔اس حلقہ میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا جبکہ میاں منظور وٹو نہ صرف این اے 143 سے دستبردار ہوگئے بلکہ انہوں نے اس حلقہ میں پی ٹی آئی کی حمائت کی۔
لیکن ان کی یہ سیاسی حکمت عملی کامیاب نہ رہی اور نہ تو عوام نے انہیں آزاد حیثیت میں کامیابی دلائی اور نہ ہی میڈم روبینہ شاہین اور میاں خرم جہانگیر کو پی ٹی آئی ورکرز نے کھل کر سپورٹ کیا۔اور ہار ان کا مقدر بنی۔
عوام کا کہنا ہے کہ میاں منظور وٹو نے پی ٹی ائی کیساتھ مل کر بڑی سیاسی غلطی کی ہے جس سے نہ صرف پیپلزپارٹی میں ان کی ساتھ متاثر ہوئی بلکہ پی ٹی آئی کے ووٹر نے بھی ان کو قبول نہیں کیا اس سے بہتر تھا کہ میاں منظور وٹو پیپلزپارٹی میں رہتے ہوئے الیکشن لڑکر ہارجاتے۔
میاں منظور احمد وٹو کے سیاسی کیرئر کا یہ اتفاق بھی ہے کہ انہوں نے 1977ء میں پہلا الیکشن بھی آزاد حیثیت میں لڑا اور ہارگئے جبکہ 2018ء میں بھی آخری الیکشن بھی انہوں نے آزاد لڑا اور شکست کھائی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میاں منظور وٹو کو چالیس سال میں پہلی بار اتنی دفاعی پوزیشن میں آکر سیاست کرنا پڑی کہ وہ ایک حلقے تک محدود ہوگئے ورنہ اس سے قبل وہ دو ،دو حلقوں سے لڑتے اور جیتتے رہے ہیں بلکہ ایک دفعہ وہ اپنے حلقے سے ہٹ کر تاندلیانوالہ سے بھی الیکشن جیت چکے تھے۔
ًمیاں منظور احمد خان وٹو کی شکست پر ان کے چاہنے والے بھی بہت افسردہ ہیں.
ان کے ایک فالور ملک عابد جٹ نوناری نے کہا کہ ہمارے قائد نے بہت سے فلاحی منصوبے ذہن میں بنا رکھے تھے جن پر انہوں نے اقتدار میں آکر عمل کرنا تھا مگر جب مجھے ان کی شکست کی خبر ملی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا لیکن میاں صاحب کی سیاست ختم نہیں ہوئی وہ عنقریب ایک بار پھر سے عوام میں ہوں گے اور ان کی خدمت کریں گے.
mian manzoor politics not ended,malik abid
میاں منظور احمد خان وٹو کی عمر اس وقت اسی سال سے تجاوز کرچکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دوبار مسلسل شکست کھانے کے بعد اب وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں یا کہ سیاست کے اس کارزار سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں