rao ajmal khan and malik ali abbas khokher alliance 899

کیا ناراض دھڑوں کا دوبارہ اتحاد دیپالپور میں مسلم لیگ ن کو جتوا سکے گا ؟

تحریر:قاسم علی..
اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر بعض اوقات یہ اختلاف رائے سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں میں دوریوں کا باعث بھی بنتا رہاہے جس کا نہ صرف پارٹی بلکہ عوام کو بھی نقصان ہوتا ہے ۔
دیپالپور میں بھی کچھ ایسا ہوا جب 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹوں پر این اے 146(موجودہ این اے 143)پر راؤمحمد اجمل خان نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمدخان وٹو کو 25000کے مقابلے میں 110000ووٹ لے کر 85000ووٹوں سے واضح شکست دی تو دوسری جانب ملک علی عباس کھوکھر نے بھی پی پی 192(موجودہ پی پی 187) سے41000ووٹ لے کر مسلم لیگ ن کو سرخرو کیا۔مسلم لیگ ن کے دونوں رہنماؤں کی تاریخی کامیابی سے نہ صرف پارٹی قیادت نے خوشیاں منائیں بلکہ مقامی عوام کو بھی امید ہوئی کہ اب ان کے مسائل دونوں نمائندے مل کر بخوبی حل کردیں گے۔
مگر ایک پارٹی ٹکٹ اور ایک نشان سے انتخابات لڑنے اور جیتنے والے دونوں عوامی نمائندوں کے مابین اختلافات پیدا ہوگئے اور یہ خلیج اس قدر بڑھی کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی راہیں ایک دوسرے سے جدا کرلیں ۔اور دونوں رہنمامختلف جلسوں اور دوستوں کی محافل میں اپنی باڈی لینگوئج سے یہ تاثر دیتے رہے کہ اب ان کی صلح کسی صورت ممکن نہیں ہے۔
اور انتخابات جیسے جیسے قریب آتے گئے ویسے ویسے دونوں کے متعلق پارٹی چھوڑنے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔
راؤمحمداجمل خان کے متعلق قومی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا کہ وہ تحریک انصاف کیلئے پرتول رہے ہیں اس سلسلے میں ان کی پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں اورعنقریب وہ مسلم لیگ کو خیرباد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف کو پیارے ہونے والے ہیں۔اس دوران راؤاجمل خان کی جانب سے چنددن کی خاموشی نے اس تاثر کو مزید پختہ کردیا تاہم بعد ازاں راؤصاحب نے اگرچہ ان خبروں کی تردید کردی۔اسی طرح ملک علی عباس کھوکھر بارے بھی گرماگرم خبریں سامنے آتی رہیں ۔کبھی یہ خبر آتی کہ ملک علی عباس اب کی بارپیپلز پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمدخان وٹو کے ساتھ پینل بنارہے ہیں اور کبھی یہ پتا چلتا کہ ملک صاحب سید گلزار سبطین شاہ کا دست و بازو بننے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ابھی یہ سب پیشگوئیاں اور قیاس آرائیاں جاری ہی تھیں کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے 25جولائی کوملک بھر میں انتخابات کا اعلان کردیا اور آٹھ جون کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ مقرر کردی ۔بس پھر کیا تھا اس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی جوڑ توڑکا سلسلہ مزیدتیز ہوگیااور کئی سیاسی پنچھیوں نے نئے ٹھکانے تلاش کرنا شروع کردئیے۔
depalpur politics
مگر اس دوران راؤمحمد اجمل خان اور ملک علی عباس نے برج الیاس خان پر ایک پریس کانفرنس میں اپنے تمام تر اختلافات ختم کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ان کو عزت دی ہے اور اس وقت ملکی منظرنامے پر مسلم لیگ کے علاوہ کوئی ایسی جماعت نہیں جو پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منازل تک پہنچاسکے۔اور انہوں نے بھی وسیع تر ملکی مفاد اور پارٹی قیادت کی ہدایات پر باہمی اختلافات ختم کرتے ہوئے شیرکے نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی صلح پر عوامی سطح پر مختلف آرا دیکھنے میں آئی ہیں ۔
محمدساجد اس حلقہ کے ایک باسی ہیں ان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی الیکشن کے قریب صلح عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے جو کہ کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ ان کی لڑائی بھی ان کے اپنے مفاد کیلئے تھی اور اب ان کا اکھٹا ہونا بھی اپنے مفاد کیلئے ہے اس سے عوام کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ راؤمحمداجمل خان نے گیس و ٹف ٹائل بھی اپنے چہیتوں کے علاقوں میں لگوائی ان کا کہنا تھا کہ عوام اگر تبدیلی چاہتے ہیں تو گلیوں کے سولنگ اور ٹف ٹائل پر ووٹ دینے کی بجائے ایسے افراد کو منتخب کریں جو صحت و تعلیم پر کام کرے اور اسمبلیوں میں پالیسی میکنگ اور قانون سازی میں اپنا موثرکردار اداکرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

depalpur okara politics
چوہدری زنیر ذولفقار مسلم لیگ ن کے سپورٹر ہیں انہوں نے کہا کہ دیپالپور مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے جہاں 25 جولائی کو ہر طرف شیر کی ہی دھاڑ ہوگی اورایک ایسے وقت میں جب مسلم لیگ ن کے خلاف سازشوں کا بازار گرم ہے ایسے میں دونوں بڑے رہنماؤں کا اپنے تمام اختلافات ختم کرتے ہوئے پارٹی کیساتھ کھڑا ہونا نہ صرف ان کی پارٹی کیساتھ وفاداری کو ثابت کررہاہے بلکہ ان کے اتحادنے مسلم لیگ ن کے ورکرز میں بھی ایک نئی توانائی بھردی ہے جو اس اختلاف کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار تھے۔
شہزاد احمد نے کہا کہ اگر ان لوگوں کو عوام کا احساس ہوتا تو یہ پہلے اتحاد کرلیتے اگر یہ ایک ہوکر اسمبلی میں مقامی لوگوں کے مسائل اٹھاتے تو بہت کچھ ہوسکتا تھا ان دونوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا دورہ منسوخ ہوا جو اگر یہاں آجاتے تو کم از کم دیپالپور اوکاڑہ روڈ کو ون وے کرنے سمیت بہت سے دیگر پروجیکٹس بھی اس شہر کو مل جاتے مگر اس وقت یہ دونوں اپنی انا سے باہر نہیں آئے.
عوام سے رائے لینے کے دوران جب ایک باباجی سے اس اتحاد بارے پوچھا گیا تو اس نے مجھے ایک لمحے کو گھورا اور پھر بڑی گہری بات کرکے خاموش ہوگیاکہ” دیکھو بیٹا میں تو اس اتحاد پرصرف اتنا کہوں گا کہ پانچوں انگلیاں ایک نہیں ہوتیں مگر کھانے کے وقت ایک ہوجاتی ہیں ”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں