gandam k kashtkar aur hakoomti policy 231

گندم کے کاشتکار اور نئی حکومتی پالیسی

تحریر:راشد ستار وٹو

پچھلے دس سال سے گندم ایک غیر منافع بخش فصل بن چکی تھی دس سال سے ریٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ زرعی مداخل کئی گنا مہنگے ہوچکے لیکن پھر بھی پنجاب کا کسان خراج تحسین کے لائق ہے کہ اس نے گندم کی کاشت کرنا چھوڑی نہیں اور اپنے وطن عزیز کی سب سے اہم غذائی فصل کی کاشت کرتا رہا حالانکہ گندم کی کاشت سے کسان کو کچھ منافع نہیں تھا اور اوپر سے حکومت پنجاب کی ظالمانہ اور کسان کے استحصال پر مبنی گندم خریداری پالیسی نے کسان کو کہیں کا نہ چھوڑا کسان کو اس کی فصل کی فروخت کے لیے جس قدر ذلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا وہ کسان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ذلت آمیز تھا پٹواری سے لے کر تحصلیدار تک اور محکمہ فوڈ کے اہلکاروں کی اجارہ داری اور کرپشن عروج پر تھی بڑے بڑے آڑھتی اور سرمایہ دار رشوت دے کر پٹواری سے اپنی مرضی کے نام لسٹوں میں ڈلوالیتے تھے اور کسان بیچارے کو اپنی جائز گرداوری کروانے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی تھی پھر خریداری مراکز پر سیاسی مداخلت اور ایم پی ایز اور ایم این ایز کے چہیتے رات کے اندھیرے میں ایم اپی اے یا ایم این اے کا فون کرواکر اور کوارڈینیٹر کو کچھ دے دلوا کر اپنی مرضی کے نام ڈلوالیتے اور عام کسان بیچارہ سارا سارا دن لائن میں کھڑا ہوکر بہت مشکل سے اپنی فائل جمع کرواپاتا یا پھر شام کو مایوس ہوکر گھر کو لوٹ جاتا اور دن کو پولیس کے ڈنڈے اور گالیاں بونس میں مل جاتیں غرضیکہ دس سال شہباز شریف کی حکومت میں کسانوں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہا اور کسان تھک ہار کر مایوس ہوجاتا اور آڑھتی کو گندم بیچنے پر مجبور ہوجاتا اور آڑھتیوں نے کسانوں کی اس مجبوری سے خوب فائدہ اٹھایا اگر 1300 روپے سرکاری ریٹ ہوتا تو آڑھتی 1100 میں کسان سے خریدتا اور دو سو روپیہ من پر خالص منافع کماتا اور کسان بیچارہ چھ مہینے محنت کرتا اپنا خون پسینہ ایک کرتا اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر اپنی فصل کے لیے ڈیزل کھاد اور سپرے خریدتا سخت حالات اور قدرتی آفات کا سامنا کرتا اور آخر میں اسے گندم سے اتنا منافع نہ آتا جتنا آڑھتی حضرات پٹواریوں اور محکمہ فوڈ کے ساتھ ملی بھگت کرکے کما لیتے

میں نے ایسے سرمایہ دار بھی دیکھے جن کا آڑھت کا کام بھی نہیں تھا لیکن وہ ان دنوں پٹورایوں کو رشوت دے کر اپنی مرضی کے نام گرداوری میں ڈلوا لیتے اور کسانوں سے گیارہ سو کے حساب سے گندم خرید کر محکمہ خوراک کو 1300 میں بیچتے اور ایک ادھ ماہ کی محنت سے لاکھوں کمالیتے اور کسانوں کے حق پر ڈاکہ ڈال لیتے یہ تو تھے پچھلے دس سالوں کے حالات اب الحمدللہ اس سال ایک تو حکومت پنجاب نے گندم کا ریٹ 1400 روپے کردیا حالانکہ یہ اضافہ اتنا نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا گندم کا ریٹ کم ازکم 1500 روپے فی من ہونا چاہیے تھا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ تو اضافہ کیا لیکن سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ گندم خرید پالیسی کو تبدیل کیا گیا وہ ظالمانہ پالیسی جو پچھلے دس سال سے کسان کا معاشی قتل کررہی تھی اور اس سے بھی بڑھ کر کسان کی عزت نفس کا بھی قتل کررہی تھی اسے اس حکومت نے ختم کیا اب اس بار باردانہ اوپن ہے جو جتنا مرضی باردانہ لے اور گندم حکومت کو 1400 روپے فی من کے حساب سے فروخت کرے اب اس کا فایدہ یہ ہوگا تمام اڑھتیوں میں بھی ایک مقابلہ کی فضا ہوگی اور کسان کو اچھا ریٹ ملے گا بظاہر تو یہ حکومت پنجاب نے گندم کے ریٹ میں ایک سو روپیہ اضافہ کیا ہے لیکن اصل میں کسان کو 2018 کی نسبت 300 روپے زیادہ ریٹ ملے گا اس بار کسان کی گندم 1350 سے 1370 تک فروخت ہوگی آخر میں اپنے کسان بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ لوگ پچھلے سالوں کو ذہن میں رکھ کر آڑھتیوں کی ہاتھوں لٹ نہ جائیے گا اس بار آڑھتیوں میں مقابلہ کی فضا ہوگی ملیں بھی گندم خریدیں گی اور محکمہ خوراک پنجاب بھی گندم خریدے گی اس لیے میرے پیارے کسان بھائیو احتیاط سے اور تحمل سے کام لیجیے گا اپنی گندم 1350 سے کم کسی صورت نہ بیچیے گا بلکہ1350 سے اوپر ہی گندم فروخت ہوگی اور جو کسان سنٹر پر پہنچا سکتے ہیں وہ ڈائریکٹ محکمہ خوراک سے پاسکو سے باردانہ لے کر سرکاری ریٹ میں گندم سرکار کو فروخت کریں اور سب سے اہم بات یہ کہ آڑھتیوں کے گندم تولنے والے ترازو (کنڈے) غلط ہوتے ہیں یہ لوگ کل دو کلو یا کچھ بے ایمان تو پانچ پانچ کلو گی بوری آپ کی گندم مارتے ہیں اس لیے کوشش کیجیے گا کہ آڑھتی صاحب سے کہیں کہ پورے ٹرالے کا وزن بڑے کنڈے پر کریں جو چھوٹے کسان ہیں جن کی فصل تھوڑی ہوگی ٹرالہ پورا نہ ہو بڑا کنڈا کرنا ممکن نہ ہو تو وہ جب تمام بوریاں بھری جائیں تو اپنی مرضی سے ایک دو بوریوں کا وزن کسی اور کنڈے پر ضرور چیک کریں اور جو کسان ڈائریکٹ محکمہ خوراک یا پاسکو کو گندم فروخت کریں وہ بھی بوری کا وزن ڈیڑھ کلو سے زیادہ نہ دیں یہ فوڈ انسپکٹر وغیرہ دوکلو پر بوری لیتے ہیں اور آگے سرکار کو ایک کلو ایک سو پچیس گرام پر دیتے ہیں بقیہ وزن ان کی جیب میں جاتا ہے۔ کسی فوڈ انسپکٹر سے یا کسی اہلکار سے ڈرنے کی ضرورت نہیں انہوں نے آپ کی گندم خریدنی ہی خریدنی ہے ان سے جرات کے ساتھ بات کریں چاپلوسی کرنے کی یا ان کی منتیں کرنے کی ضرورت نہیں

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.