qasim ali columnist 474

سی ای او اوکاڑہ ڈائری قاسم علی کا تعارف

قاسم علی پنجاب کی تحصیل دیپالپور سے تعلق رکھنے والے کالم نگار ہیں اورعرصہ گیارہ سال سے ملکی سطح کے تقریباََ تمام بڑے اخبارات نوائے وقت،پاکستان،نئی بات،دنیا،خبریں،اوصاف،دن،الشرق اور دیگر میں ان کے کالم ”صدا کرچلے ”کے لوگو کیساتھ شائع ہوتے رہے ہیں جبکہ آج کل روزنامہ پاکستان اورجہان پاکستان میں مستقل لکھ رہے ہیں۔2010ء میں نوائے وقت کی جانب سے ہونے والے ملک گیر مضمون نویسی کے مقابلے میں ان کے مسئلہ کشمیر پر لکھے گئے مضمون کو”بہترین تحریر”کے ایوارڈسے نوازا گیا۔قاسم علی ایک فیچر رائیٹربھی ہیں اور ان کے فیچر معروف ویب سائٹ سجاگ پر باقاعدگی سے چھپتے ہیں ۔ 2015ء میں پی ایف یو سی نے انہیں بہترین کالم نگار کے ایوارڈ سے نوازاجبکہ2016ء میں ان کا لکھا گیا فیچر”ساہیوال بورڈ کا ٹاپرکھیت مزدور” سجاگ کا سب سے زیادہ پڑھا جانیوالافیچر تھا۔
**آپ کالم نگاروں کی ملک گیر تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ کیساتھ وابستہ ہیں اور2018ء کے انتخابات میں مرکزی سیکرٹری نشرواشاعت منتخب ہوئے ہیں۔
**اس کے علاوہ قاسم علی ایک سوشل ورکر ہیں اور سوسائٹی فارہیومن رائٹس پاکستان خبریں گروپ کے جنرل سیکرٹری ضلع اوکاڑہ کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس حوالے سے وہ عوامی دلچسپی کے مسائل کے حل کیلئے دامے درمے سخنے کوشاں رہتے ہیں ۔خاص طور پر دیپالپور میں صحت اور تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کافی تحریری کام کیا ہے اور اس حوالے سے ان کی تحریریں سنجیدہ حلقوں میں خاصی مقبولیت رکھتی ہیں ۔
قاسم علی تحریک میڈیا گروپ کیساتھ بھی وابستہ ہیں اس سلسلے میں وہ دیپالپور میں تحریک ٹی وی کے دیپالپور میں رپورٹر ہیں اور روزنامہ تحریک میں ہفتہ وار ڈائری بھی لکھتے ہیں۔
**قاسم علی نے معذورافراد کیلئے کافی لکھا اور کام کیا ہے وہ ضلع اوکارہ میں معذورافراد کیلئے کام کرنیوالی اولین تنظیم انجمن بحالی معذوراں رجسٹرڈ ضلع اوکاڑہ کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔7اپریل 2018ء کو صدر انجمن بحالی معذوراں ملک مظہر اور سینئرنائب صدر قاسم علی کی سربراہی میں ضلع اوکاڑہ کے سینکڑوں معذوروں نے حکومتوں کی جانب سے معذورکمیونٹی کو مسلسل نظرانداز کرنے اور ان کیلئے بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کرنے کیلئے درخواست سپریم کورٹ رجسٹری میں پیش کی اور یہی وہ لمحہ بھی تھا جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے عدالت سے باہر آکر معذورافراد سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ ان کے مسائل کے حل کا وعدہ کرتے ہوئے اس معاملے پر ازخود نوٹس لے لیا۔
**قاسم علی ایک طرف تو ارضِ وطن کی بدامنی ،مہنگائی ،بیروزگاری ،لیڈر شپ کے فقدان اورخصوصاََ عوام کی اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے سارا ملبہ صرف حکمرانوں پر ڈالنے کی روش سے سخت پشیمان ہیں تو دوسری جانب وہ ملکی و عالمی سطح پر مسلمانوں کے مسائل کی وجہ دین سے دوری اور مغرب وامریکہ کی اندھی تقلید اور مسلم حکمرانوں کی خودانحصاری کی پالیسی کی بجائے غیروں پرتکیہ کرنے اور ان سے مرعوبیت کو سمجھتے ہیں جس کا اظہار وہ برملا طور پر اپنے کالموں میں کرتے نظرآتے ہیں ۔ قاسم علی کی تحریروں کا ایک قابل ذکر حصہ معذورافراد کیلئے لکھے گئے کالموں پر مشتمل ہے جن میں وہ ایک اسلامی فلاحی مملکت ہونے کے باوجود پاکستان میں معذوروں کو بری طرح نظرانداز کئے جانے اور معذوروں کو ملک کی سب سے بڑی کمیونٹی بن جانے پر سخت پریشان ہیں جس کا گلہ وہ اپنے کالموں میں حکومت اور معاشرے سے کرتے رہتے ہیں ۔
**قاسم علی نے اینکر پرسن کے طور پر بھی رینالہ نیوز کیلئے کئی پروگرام کئے ہیں تاہم اس کے بعد انہوں نے یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہیں رکھا کیوں کہ وہ تحریری کام کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں