bad incidents of election 2018 696

الیکشن 2018ء میں ضلع اوکاڑہ میں پیش آنیوالے چند سانحات کا تذکرہ

تحریر:قاسم علی…
ملک بھر میں گیارھویں انتخابات مکمل ہوگئے اور بہت جلد نئی حکومت بننے جارہی ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ ضلع اوکاڑہ انتخابی عمل کے دوران کئی افسوسناک واقعات بھی پیش آئے جس میں نہ صرف پانچ زندگیاں ضائع ہوئیں بلکہ کئی افراد زخمی بھی ہوگئے۔
ان میں سے ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب حویلی لکھا میں کھمبے پر چڑھ کر فلیکس لگاتے ہوئے بجلی لگنے سے دوافراد موقع پرہی جان کی بازی ہارگئے جبکہ تیسرا شخص لاہور میں ریفرکردیا گیا جہاں وہ ایک ہفتہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جاں بحق ہوگیا۔جبکہ اوکاڑہ کا عمران بھی الیکشن کی فلیکس لگاتے ہوئے بجلی لگنے سے موت کے منہ میں چلا گیا۔
اسی طرح اوکاڑہ صمدپورہ روڈ پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے ورکرز کے مابین لڑائی ہوگئی جس میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔
اسی طرح جب الیکشن کی سرگرمیاں عروج پرتھیں ایسے میں پاکستان مسلم لیگ کواس وقت بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑاجب پاکستان مسلم لیگ ن لیبرونگ اوکاڑہ کے ضلعی صدرحاجی امانت علی بھولا انتقال کرگئے. حاجی امانت انصاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی چیئرمین بھی تھے اور انتہائی ملنسار سیاسی و سماجی شخصیت تھے.حاجی امانت علی بھولا دیپالپور کے معروف فزیشن ڈاکٹرعادل رشید کے بہنوئی بھی تھے.
الیکشن سے صرف ایک روز قبل چک شاہ نواز کےرہائشی معروف سیاست دان چوہدری اللہ نواز کا انتقال بھی ایک بڑا سانحہ سے کم نہیں.چوہدری اللہ نوازفیملی قیام پاکستان سے پہلے قائم یونین کونسل شاہ نوازمیں شروع سے ہی برسراقتدار رہی ۔دیپالپور کی پارلیمانی سیاست میں میں ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 1985سے 2013تک عام انتخابات میں ملک خاندان سے صرف ایک شخص الیکشن جیت پایا اوروہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر چوہدری اللہ نواز کا بھائی شاہد نوازتھا جس نے 1988ء میں ملک عباس کو ہرایاتھا.چوہدری اللہ نواز بلڈپریشر اور امراض دل میں مبتلا تھے تاہم اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی کیمپین آخری روز تک کرتے رہے.اللہ ان کی مغفرت فرمائے.
الیکشن والے دن بھی دو اموات ہوگئیں ان میں سے ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دیپالپور کے پی پی 184 میں پولنگ سٹیشن پر ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے آنے والا کوٹ شاہ مشتاق حجرہ شاہ مقیم کا رہائشی ظفراقبال دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیامرحوم سابق وزیر اعلی پنجاب میاں منظور احمد خاں وٹو کے قریبی ساتھی تھے.دوسرے واقعے میں دیپالپور کے علاقے چڑھت سنگھ میں مشتاق نامی ایک پولیس اہلکار وضو کرتے ہوئے جاں بحق ہوگیا.
a man died in election by electric poll
الیکشن کے دوران ہنگامہ آرائی اور جذباتیت الیکشن تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ الیکشن کے اختتام پر بھی نفرت کی یہ آگ بھڑکی رہی۔جس کا ایک مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب اوکاڑہ کے ایک گاؤں 43جی ڈی میں حافظ احمد علی نامی ایک امام مسجد کو بچی سے زیادتی کے الزام میں وحشیانہ تشددکا نشانہ بنا کر اس کی بھنویں اور بال مونڈ دئیے گئے مگر اس کے بھائی اور والدین نے میڈیا کو بتایا کہ اس پر لگنے والا الزام سفید جھوٹ ہے اور اسے اس لئے انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ اس نے ایک امیدوار کو ووٹ دینے سے صاف انکارکردیاتھا۔
اس کے بعد دیپالپور کے نواحی گاؤں وینڈلہ جاگیر میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا عثمان نامی ایک پچاس سالہ شخص کوچھ افراد نے اس لئے انتہائی بیدردی سے مشق ستم کا نشانہ بنایا کہ اس غریب نے ووٹ کا حق اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا جرم کیا تھا۔
تیسرا واقعہ پھلرون میں پیش آیا جہاں پر پندرہ افراد نے ظفراقبال اور تصور علی کے گھر دھاوا بول دیا اور ڈنڈوں اور سوٹوں سے ان کو تشدد کرکے لہولہان کردیا ۔ظفراور تصور نے بھی میڈیا کو بتایا کہ انہیں ووٹ کا جمہوری حق استعمال کرنے کی پاداش میں یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔
a man passed away by heart attack on polling day
اس سلسلے میں ایک نوجوان امانت علی نے کہا کہ
الیکشن کے دوران نفرتوں کو بڑھانے میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے حکومت کو چاہئے کہ ایسے نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرے کیوں کہ اس کی وجہ سے یہ سیاسی عمل انتقامی کاروائیوں میں بدل جاتا ہے۔
ایک بزرگ نے کہا کہ سیاسی حمائت کا مخالفت ہر ایک کا جمہوری حق ہوتا ہے مگر عدم برداشت کے رویوں نے سیاست کو ایسا گٹر بنادیا ہے کہ کوئی بھی شریف آدمی اس میں شامل ہونا پسند نہیں کرتا ۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نظام میں بہتری کیلئے عوام میں زبردست آگہی مہم کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں