depalpur NA 143,NA 144 PTI workers disappointed 837

این اے 143 اور این اے 144کو خالی چھوڑناپی ٹی آئی کیلئے کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ؟

تحریر:قاسم علی…
طویل انتظار کے بعدپاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ نے اپنے امیدواران کو ٹکٹ جاری تو کردئیےلیکن پی ٹی آئی کی جانب سے ضلع اوکاڑہ کے انتہائی اہم حلقوں این اے 143اور این اے 144کو کھلا چھوڑنا پی ٹی آئی کے ووٹر کیلئےجس کے باعث ہےجس پر نہ صرف پارلیمانی بورڈ تنقید کی زدمیں ہے بلکہ مقامی سطح پر پارٹی ورکرز شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
این اے 143دیپالپور میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ کیلئے جو امیدوار سامنے آئے تھے ان میں راؤصفدر علی خان،سیدعباس رضا رضوی ،سیدگلزارسبطین اور سردار شہریارموکل شامل تھے مگر ان سب کو نظرانداز کردیا گیا ۔
اسی طرح این اے 144میں ملک وقار احمدنول،میاں فیاض اسلم وٹو اور سردار علی حیدروٹو پارٹی ٹکٹ کے امیدلگائے بیٹھے تھے۔لیکن ان سب کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس صورتحال نے پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے خاص طور پر این اے 144حویلی لکھا کے ورکرز پارٹی فیصلے پر شدید تنقید کررہے ہیں۔
عمرمیواتی حویلی لکھا میں پی ٹی آئی کے ایک سرگرم کارکن ہیں ان کا کہنا ہے کہ
گزشتہ انتخابات میں یہاں پر کوئی پی ٹی آئی کا نام لیوا بھی نہ تھا مگراس کے بعدہم نے حویلی لکھا میں پاکستان تحریک انصاف کیلئے دن رات محنت کی اور یہی وجہ ہے کہ حویلی لکھا پورے ضلع اوکاڑہ میں سب سے زیادہ فعال جماعت تحریک انصاف ہی ہے ۔یہ سب جدوجہد ہم نے فقط اس لئے کی کہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں اور عمران خان کو بڑا لیڈر سمجھتے ہیں مگر اب جب کہ الیکشن کا وقت آیا تو پارٹی قیادت نے یہاں پر کسی کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا اوراس حلقہ کو اوپن چھوڑدیا اور پارٹی کے اس فیصلے سے نظریارتی ورکرز کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حلقہ کو اوپن چھوڑنے کا مقصد میاں منظور احمدخان وٹو کو جتوانا ہے مگر ہم پارٹی کے اس غیرمنصفانہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے کیوں کہ اس سے یہ تاثرملتا ہے کہ اس حلقہ میں پارٹی انتہائی کمزورہے اور اس کے پاس کوئی موزوں امیدوار نہیں ہے حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ہم یہ یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حویلی لکھا میں پی ٹی آئی جتنی مضبوط ہے اتنی پورے اوکاڑہ میں نہیں اگر یہاں پر کسی کو ٹکٹ دیاجاتا تو پی ٹی آئی سب سے پہلے یہاں سے سیٹ نکالتی۔
پی ٹی آئی کے دیگر ورکرز نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرمیاں منظور احمدخان وٹوباضابطہ طور پر پی ٹی آئی میں شامل ہوجاتے اور بلے کے انتخابی انشان پر الیکشن لڑتے تو بھی ہم پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتے مگر آزاد حیثیت میں ہم ان کی کسی صورت سپورٹ نہیں کریں گے۔
اس فیصلے سے ناراض بعض ورکرز نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم اس حلقہ کو میاں منظور وٹو کے حوالے کرنے کے فیصلے خلاف احتجاجاََ مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے ۔
pti workers protest in NA 143,144
یہی حال این اے 143کا ہے جہاں پر ایم این کے ٹکٹ کیلئے پرامیدسردارشہریارموکل ،راؤصفدرعلی خان،سیدعباس رضا رضوی اورسیدگلزارسبطین کوعین آخری وقت میں ٹھینگا دکھا کر اس حلقہ کو بھی خالی چھوڑدیا گیا۔
پارٹی کے اس فیصلے پر تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں اور پارٹی ورکرز نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پارٹی ورکرز کی کھلی توہین اور سراسرزیادتی ہے اگر پارٹی قیادت نے اس حلقہ میں ٹکٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو یہاں پر گزشتہ ایک عشرے سے کی گئی محنت رائیگاں جائیگی ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تبدیلی کے نام پر منظور وٹو جیسے لوگوں کو سپورٹ کا کہاجائے تو یہ اس نعرے کیساتھ بدترین زیادتی ہوگی ۔اس حلقہ کو منظور وٹو کیلئے خالی چھوڑنے سے بہترتھا کہ پی ٹی آئی اپنے امیدوار کھڑے کرکے ہارجاتی۔
این اے 143کوکھلا چھوڑنے کے فیصلے پر اس حلقہ کے تمام ٹکٹ امیدواروں اور پرانے رہنماؤں سیدعباس رضا رضوی، راؤ
صفدرعلی خان،سردارشہریارموکل،سیدعلی عباس گیلانی،سیدمراتب علی کرمانی،سیدعلی نوازکرمانی،سیدعلی ریاض کرمانی،سیداعجاز علی کرمانی نے باضابطہ طور پر یس ریلیز جاری کی کہ ”ہم نے مشترکہ طور پریہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر پارٹی نے ہم امیدواران میں سے کسی بھی امیدوار کو ٹکٹ جاری کردیا تو دیگر سب امیدواران اس کو جتوانے کیلئے تندہی سے اس کا ساتھ دیں گے اور اگر پارٹی نے اس حلقہ کو اوپن چھوڑا اور کسی دیگر فرد کو پارٹی ٹکٹ دیا تو ہم سب پارٹی لیڈرشپ سے احتجاج کریں گے کیوں کہ اس سے مسلم لیگ ن کے امیدواران کو تقویت ملے گی ۔
دوسری جانب اس حلقہ میں اپنا امیدوار کھڑا نہ کرکے پی ٹی آئی نے خود ہی اپنے حریفوں کو لوز بال فراہم کردی ہے جس کا وہ خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جلسوں میں یہ کہتے نظرآتے ہیں کہ جو لیڈراپنے پرانے ورکرز کو عزت نہیں دے سکا وہ اپنے ووٹرز کو کیا عزت دے گا.جس کو اپنی ٹیم کی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں وہ ملک کو کیا چلائے گا.
بہرحال پارٹی کی جانب سے ان دونوں حلقوں کو کھلا چھوڑنے کے فیصلے سے یوں لگ رہاہے کہ پارٹی نے اس کو کھلاچھوڑ کریہاں پر کی گئی اپنی محنت پر خود ہی پانی پھیردیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور پارلیمانی بورڈ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرتا ہے یا نہیں ؟ فیصلہ جو بھی ہوا پارٹی پر گہرے اثرات چھوڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں